مصنف سے اختلاف کی جسارت کرتے ہوے خلاصہ یہ ہے کہ اگر عالمی ادارے ناکام ہوئے تو سوال اداروں کی ساخت سے زیادہ اُن کے طاقتور اراکین کے رویّے پر اٹھتا ہے۔ مثال کے طور پر United Nations Security Council میں امریکہ مستقل رکن ہے اور ویٹو پاور رکھتا ہے۔ اگر کسی قرارداد کو اسرائیل کے خلاف منظور نہ ہونے دیا جائے، تو یہ “بین الاقوامی نظام کی ناکامی” نہیں بلکہ ایک رکن ریاست کی سیاسی ترجیح یا طاقت کا استعمال ہے۔ ادارہ اپنی ساخت کے مطابق کام کر رہا ہے؛ مسئلہ اس کے استعمال کا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا ضروری ہے: کوئی بھی بین الاقوامی ادارہ خودمختار ریاستوں سے بالاتر نہیں ہوتا۔ United Nations ایک supra-state نہیں ہے؛ وہ اپنے رکن ممالک کی رضامندی اور طاقت کے توازن پر چلتا ہے۔ اگر مستقل اراکین ویٹو استعمال کریں تو نظام رک جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ چارٹر غلط ہے، بلکہ یہ کہ طاقت کے عدم توازن نے انصاف کو محدود کر دیا۔
مصنف جب یہ کہتے ہیں کہ “Rule Based Order dead on arrival تھا”، تو وہ دراصل اس سیاسی حق
یقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اصولوں کا اطلاق منتخب انداز میں ہوتا ہے۔ اگر امریکہ جیسے ممالک خود نظام کا حصہ ہیں اور اسی کے ذریعے اپنی پالیسی چلاتے ہیں، تو پھر اسی نظام کو ناکام قرار دے کر متبادل غیر ضابطہ فورم کو جائز ٹھہرانا منطقی تضاد ہے۔ یعنی پہلے نظام کو کمزور کرو، پھر اس کی ناکامی کو جواز بنا کر نیا کھیل شروع کرو — یہ دلیل اخلاقی طور پر کمزور دکھائی دیتی ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ International Court of Justice اور International Criminal Court جیسے ادارے قانونی رائے اور احتساب کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ ان کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونا سیاسی رکاوٹ ہے، قانونی نظام کی غیر موجودگی نہیں۔ اگر طاقتور ریاستیں عملدرآمد نہ ہونے دیں تو قصور قانون کا نہیں بلکہ سیاسی ارادے کا ہے “کوئی بھی ادارہ اتنا ہی اچھا ہوسکتا ہے جتنے اس کے ممبرز” عالمی ادارے طاقت کے توازن کی عکاسی کرتے ہیں؛ وہ اس سے اوپر نہیں اٹھ سکتے۔ لیکن اسی لیے کمزور ریاستوں کے لیے ضابطہ جاتی نظام ایک ڈھال کا کام کرتا ہے۔ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ نظام مکمل طور پر مردہ ہے، تو پھر طاقت ہی واحد معیار رہ جائے گا — اور اس میں ہمیشہ کمزور فریق کو نقصان ہوتا ہے، خواہ وہ فلسطینی ہوں یا کوئی اور۔لہٰذا میرا تجزیہ یہ ہے کہ عالمی ادارے ناکام نہیں بلکہ جان بوجھ کر محدود کئے جارہے ہیں جسکی امریکہ کے کردار کے حوالے سے حالیہ تاریخ واضح ہے ۔ اگر مستقل اراکین اپنی طاقت انصاف کے بجائے مفاد کے لیے استعمال کریں تو نظام رکاوٹ کا شکار ہوتا ہے، مگر اسی بنیاد پر پورے قانونی ڈھانچے کو رد کرنا دانشمندانہ نہیں۔ اصلاح اور دباؤ کا راستہ زیادہ پائیدار ہے بہ نسبت اس کے کہ ہم طاقت پر مبنی متبادل کو “آخری امید” قرار دے دیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو خود بعض تنازعات میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتا ہے، غزہ بورڈ میں آنکھیں کان بند کرکے لبیک کہنا اسکے اپنے مستقبل کے مفادات کے لے غیر مفید اور نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
مصنف سے اختلاف کی جسارت کرتے ہوے خلاصہ یہ ہے کہ اگر عالمی ادارے ناکام ہوئے تو سوال اداروں کی ساخت سے زیادہ اُن کے طاقتور اراکین کے رویّے پر اٹھتا ہے۔ مثال کے طور پر United Nations Security Council میں امریکہ مستقل رکن ہے اور ویٹو پاور رکھتا ہے۔ اگر کسی قرارداد کو اسرائیل کے خلاف منظور نہ ہونے دیا جائے، تو یہ “بین الاقوامی نظام کی ناکامی” نہیں بلکہ ایک رکن ریاست کی سیاسی ترجیح یا طاقت کا استعمال ہے۔ ادارہ اپنی ساخت کے مطابق کام کر رہا ہے؛ مسئلہ اس کے استعمال کا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا ضروری ہے: کوئی بھی بین الاقوامی ادارہ خودمختار ریاستوں سے بالاتر نہیں ہوتا۔ United Nations ایک supra-state نہیں ہے؛ وہ اپنے رکن ممالک کی رضامندی اور طاقت کے توازن پر چلتا ہے۔ اگر مستقل اراکین ویٹو استعمال کریں تو نظام رک جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ چارٹر غلط ہے، بلکہ یہ کہ طاقت کے عدم توازن نے انصاف کو محدود کر دیا۔
مصنف جب یہ کہتے ہیں کہ “Rule Based Order dead on arrival تھا”، تو وہ دراصل اس سیاسی حق
یقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اصولوں کا اطلاق منتخب انداز میں ہوتا ہے۔ اگر امریکہ جیسے ممالک خود نظام کا حصہ ہیں اور اسی کے ذریعے اپنی پالیسی چلاتے ہیں، تو پھر اسی نظام کو ناکام قرار دے کر متبادل غیر ضابطہ فورم کو جائز ٹھہرانا منطقی تضاد ہے۔ یعنی پہلے نظام کو کمزور کرو، پھر اس کی ناکامی کو جواز بنا کر نیا کھیل شروع کرو — یہ دلیل اخلاقی طور پر کمزور دکھائی دیتی ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ International Court of Justice اور International Criminal Court جیسے ادارے قانونی رائے اور احتساب کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ ان کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونا سیاسی رکاوٹ ہے، قانونی نظام کی غیر موجودگی نہیں۔ اگر طاقتور ریاستیں عملدرآمد نہ ہونے دیں تو قصور قانون کا نہیں بلکہ سیاسی ارادے کا ہے “کوئی بھی ادارہ اتنا ہی اچھا ہوسکتا ہے جتنے اس کے ممبرز” عالمی ادارے طاقت کے توازن کی عکاسی کرتے ہیں؛ وہ اس سے اوپر نہیں اٹھ سکتے۔ لیکن اسی لیے کمزور ریاستوں کے لیے ضابطہ جاتی نظام ایک ڈھال کا کام کرتا ہے۔ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ نظام مکمل طور پر مردہ ہے، تو پھر طاقت ہی واحد معیار رہ جائے گا — اور اس میں ہمیشہ کمزور فریق کو نقصان ہوتا ہے، خواہ وہ فلسطینی ہوں یا کوئی اور۔لہٰذا میرا تجزیہ یہ ہے کہ عالمی ادارے ناکام نہیں بلکہ جان بوجھ کر محدود کئے جارہے ہیں جسکی امریکہ کے کردار کے حوالے سے حالیہ تاریخ واضح ہے ۔ اگر مستقل اراکین اپنی طاقت انصاف کے بجائے مفاد کے لیے استعمال کریں تو نظام رکاوٹ کا شکار ہوتا ہے، مگر اسی بنیاد پر پورے قانونی ڈھانچے کو رد کرنا دانشمندانہ نہیں۔ اصلاح اور دباؤ کا راستہ زیادہ پائیدار ہے بہ نسبت اس کے کہ ہم طاقت پر مبنی متبادل کو “آخری امید” قرار دے دیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو خود بعض تنازعات میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتا ہے، غزہ بورڈ میں آنکھیں کان بند کرکے لبیک کہنا اسکے اپنے مستقبل کے مفادات کے لے غیر مفید اور نقصان دہ ہو سکتا ہے۔